9 اشعار

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

Hum unhein woh hamein bhula baithe

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

«ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھے

حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھےتیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے

آندھیو جاؤ اب کرو آرامہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے

جی تو ہلکا ہوا مگر یارورو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے

بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیاگھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے

جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہمسب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے

ہم رہے مبتلائے دیر و حرموہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے

اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جانرہ گئے سارے با وفا بیٹھے

حشر کا دن ابھی ہے دور خمارؔآپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں