7 اشعار

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

Ik pal mein ik sadi ka maza hum se poochhiye

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

«اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہمقسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئےانجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے

جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاںسرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہےآنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھئے

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرحہنسئے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھئے

ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔتوہین مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

— خمار بارہ بنکوی