9 اشعار

ابھی موسم نہیں بدلا

Abhi mausam nahin badla

ابھی موسم نہیں بدلا

«ابھی موسم نہیں بدلا» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ابھی موسم نہیں بدلاابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا

ابھی دیوارودر سے خوف کے سائے نہیں سمٹےابھی حیلہ فروشی مکتبِ خواہش میں ٹھہری ہے

ابھی بھولی نہیں وہ داستاں جو ہم پہ گزری ہےابھی موسم نہیں بدلا

زباں بندی کے صحرا سے نکل تو آئے ہو لیکنسخن کے شعلئہِ تائید کو ارزاں نہیں کرتے

نئے موسم کو حرفِ شوق کا عنوان نہیں کرتےوہ موسم

جس میں تازہ کونپلیں ڈر کے نکلتی ہیںہر اک گھر اور ہر دہلیز پر پہرہ خزاں کا تھا

دعا کے بادباں پہ نام بھی نامِ گماں کا تھاوہ موسم جس میں عفریتِ ہزیمت راج کرتا تھا

وہ کیا آسیب تھا جو اپنی گلیوں سے گزرتا تھاکہ اب دیوار و در سے خوف کے سائے سمیٹے جائیں

کہ اب شادابیاں ٹھہریںکہ اب موسم بدل جائے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں