ابھی موسم نہیں بدلا
کلام: کشور ناہید
ابھی موسم نہیں بدلاابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا
ابھی دیوارودر سے خوف کے سائے نہیں سمٹےابھی حیلہ فروشی مکتبِ خواہش میں ٹھہری ہے
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
ابھی موسم نہیں بدلاابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا
ابھی دیوارودر سے خوف کے سائے نہیں سمٹےابھی حیلہ فروشی مکتبِ خواہش میں ٹھہری ہے