7 اشعار

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی

Deewar-o-dar mein gham ka tamasha to hai abhi

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی

«دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھیوہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی

مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگیپاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی

سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھاچنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی

خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نےآشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی

معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میںامید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی

رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھےہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی

بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دلقسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں