7 اشعار

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں

Hasrat hai tujhe saamne baithe kabhi dekhun

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں

«حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوںمیں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں

دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگمہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں

جس نام سے تو نے مجھے بچپن سے پکارااک عمر گزرنے پہ بھی وہ نام نہ بھولوں

تو اشک ہی بن کے مری آنکھوں میں سما جامیں آئینہ دیکھوں تو ترا عکس بھی دیکھوں

پوچھوں کبھی غنچوں سے ستاروں سے ہوا سےتجھ سے ہی مگر آ کے ترا نام نہ پوچھوں

جو شخص کہ ہے خواب میں آنے سے بھی خائفآئینۂ دل میں اسے موجود ہی دیکھوں

اے میری تمنا کے ستارے تو کہاں ہےتو آئے تو یہ جسم شب غم کو نہ سونپوں

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں