دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
کلام: کشور ناہید
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھیوہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی
مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگیپاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھیوہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی
مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگیپاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی
مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہےیہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے
یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کرتعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے