13 اشعار

ایک نظم اجازتوں کے لیے

Ek nazm ijazaton ke liye

ایک نظم اجازتوں کے لیے

«ایک نظم اجازتوں کے لیے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تم مجھے پہن سکتے ہوکہ میں نے اپنے آپ کو

دھلے ہوئے کپڑے کی طرحکئی دفعہ نچوڑا ہے

کئی دفعہ سکھایا ہےتم مجھے چبا سکتے ہو

کہ میں چوسنے والی گولی کی طرحاپنی مٹھاس کی تہہ گھلا چکی ہوں

تم مجھے رلا سکتے ہوکہ میں نے اپنے آپ کو قتل کر کے

اپنے خون کو پانی پانی کر کےآنکھوں میں جھیل بنا لی ہے

تم مجھے بھون سکتے ہوکہ میری بوٹی بوٹی

تڑپ تڑپ کرزندگی کی ہر سانس کو

الوداع کہہ چکی ہےتم مجھے مسل سکتے ہو

کہ روٹی سوکھنے سے پہلےخستہ ہو کر بھربھری ہو جاتی ہے

تم مجھے تعویذ کی طرحگھول کر پی جاؤ

تو میں کلیساؤں میں بجتی گھنٹیوں میںاسی طرح طلوع ہوتی رہوں گی

جیسے گل آفتاب

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں