7 اشعار

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے

Kabhi woh aankh kabhi faisla badalta hai

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے

«کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھےفقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے

وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھاانہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے

اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہاروزوالِ شام سے منظر نیا نکلتا ھے

مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ھےیہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ھے

شکستِ ساعتِ جاں ورثہء زمیں تو نہیںبھنور کا پاؤں سوادِ سفر نکلتا ھے

ہزیمتوں کی صلیبوں کو شب چراغ کروکہ آندھیوں کا سفینہ ہونہی سنبھلتا ھے

میری زباں پہ کوئی ذائقہ ٹھہر نہ سکاکہ مجھے میں اور کوئی پیرہن بدلتا ھے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں