حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
کلام: کشور ناہید
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوںمیں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں
دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگمہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوںمیں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں
دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگمہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں
تم مجھے پہن سکتے ہوکہ میں نے اپنے آپ کو
دھلے ہوئے کپڑے کی طرحکئی دفعہ نچوڑا ہے