8 اشعار

ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے

Hum ke maghloob-e-guman the pehle

ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے

«ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلےپھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے

خواہشیں جھریاں بن کر ابھریںزخم سینے میں نہاں تھے پہلے

اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیںواقف سود و زیاں تھے پہلے

دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلااشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے

اب فقط انجمن آرائی ہےاعتبار دل و جاں تھے پہلے

دوش پہ سر ہے کہ ہے برف جمیہم کہ شعلوں کی زباں تھے پہلے

اب تو ہر تازہ ستم ہے تسلیمحادثے دل پہ گراں تھے پہلے

میری ہم زاد ہے تنہائی مریایسے رشتے بھی کہاں تھے پہلے

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں