ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
کلام: کشور ناہید
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلےپھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے
خواہشیں جھریاں بن کر ابھریںزخم سینے میں نہاں تھے پہلے
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلےپھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے
خواہشیں جھریاں بن کر ابھریںزخم سینے میں نہاں تھے پہلے
کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھےفقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے
وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھاانہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے