جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو
کلام: کشور ناہید
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہودیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو
اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لےسارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہودیوار زندگی میں دریچہ کوئی تو ہو
اک پل کسی درخت کے سائے میں سانس لےسارے نگر میں جاننے والا کوئی تو ہو
حوصلہ شرط وفا کیا کرنابند مٹھی میں ہوا کیا کرنا
جب کوئی سنتا نہ ہو بولنا کیاقبر میں شور بپا کیا کرنا