7 اشعار

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

Woh ajnabi tha, ghair tha, kis ne kaha na tha

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا

«وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھادل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا

ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھیکچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا

دست خیال یار سے پھوٹے شفق کے رنگنقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا

ڈھونڈا اسے بہت کہ بلایا تھا جس نے پاسجلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا

کچھ اس قدر تھی گرمئ بازار آرزودل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا

کیسے کریں گے ذکر حبیب جفا پسندجب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا

کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہیدؔ آج تھیکچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں