5 اشعار

نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر

Nazar aa tu kabhi aankhon ki roshni ban kar

نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر

«نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کرزمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر

رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرمنشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر

کبھی تو آ ستم جان گسل ہی دینے کوکبھی گزر انہی راہوں سے اجنبی بن کر

خوشا کہ اور ملا غم کا تازیانہ ہمیںخوشا وہ درد جو چھایا ہے نغمگی بن کر

ہوئی نہ ان سے وفا تم سے کیا ہوا ناہیدؔابھی تلک جیے جاتی ہو باؤلی بن کر

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں