9 اشعار

سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا

Sulagti ret pe aankhen bhi zer-e-pa rakhna

سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا

«سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا» کشور ناہید کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنانہیں ہے سہل ہوا سے مقابلہ رکھنا

اسے یہ زعم کہ آغوش گل بھی اس کی ہےجو چاہتا ہے پرندوں کو بے نوا رکھنا

سبک نہ ہو یہ نگہ داریٔ جنوں ہم سےیہ دیکھنے کو اسے سامنے بٹھا رکھنا

بکھر نہ جانا جراحت نوازئی شب پرمشام جاں کو ابھی خواب آشنا رکھنا

وہ فرصتیں کہ جنہیں آہٹوں کی خواہش ہوانہیں جرس کی تمنا سے ماسوا رکھنا

تمام منظر جاں اس کی خواہشوں سے بناوہ خواب ہے تو اسے خواب میں سجا رکھنا

اداسیوں کو تو آنگن ہی چاہیئے خالیچھتوں پہ چاندنی راتوں کا سلسلہ رکھنا

وہ جب بھی آیا بہت تیز بارشوں جیساوہ جس نے چاہا مجھے سرمئی گھٹا رکھنا

بس اک چراغ مسافت کا بوجھ سہہ لے گاسخن کے بیچ طلب گارئ وفا رکھنا

— کشور ناہید

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں