عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
کلام: کشور ناہید
عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میںساحل ساحل جذبے تھے اور دریا دریا پہنچی میں
شہر میں اس کے نام کے جتنے شخص تھے سب ہی اچھے تھےصبح سفر تو دھند بہت تھی دھوپیں بن کر نکلی میں