تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا
کلام: کشور ناہید
تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھاوحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا
اپنی بے چہرگی چھپانے کوآئنے کو ادھر ادھر رکھا
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھاوحشتوں کو بھی اپنے گھر رکھا
اپنی بے چہرگی چھپانے کوآئنے کو ادھر ادھر رکھا
وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھادل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا
ہم کو تو احتیاط غم دل عزیز تھیکچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلا نہ تھا