8 اشعار

راکھی

Rakhi

اس کے دھاگوں میں دل کے خزانے نہاںاس کے پھولوں میں دریائے الفت رواں

یہ بہن بھائی کی چاہتوں کا نشاںیہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو

اس کی تصویر میں ہے عجب بانکپناس کی تاریخ میں ایکتا کا چلن

اس کی عظمت کا قائل ہے سارا چمنیہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو

صرف بندھن نہیں ایک پیمان ہےبھائیوں کے دلوں کا یہ ایمان ہے

اپنی بہنوں پہ ہر بھائی قربان ہےیہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو

کی ہمایوں نے رکشا جو میواڑ کیدشمنوں کو ہر اک موڑ پر مات دی

رکشا بندھن ہی کی یہ کرامات تھییہ ہے راکھی کا بندھن مرے بھائیو

— مسعودہ حیات