6 اشعار

دلوں سے اٹھنے لگے گا دھواں تو کیا ہوگا

Dilon se uthne lagega dhuan to kya hoga

دلوں سے اٹھنے لگے گا دھواں تو کیا ہوگابدل گیا کبھی رنگ جہاں تو کیا ہوگا

مچل گیا جو دل ناتواں تو کیا ہوگااٹھا نہ عشق کا بار گراں تو کیا ہوگا

ہمیں فریب محبت قبول ہے لیکنجو کھل گئی کبھی دل کی زباں تو کیا ہوگا

ہم اہل دل ہیں کسی امتحاں سے کیا ڈرتےلیا فلک نے ترا امتحاں تو کیا ہوگا

ہزار درد سمیٹے ہوئے ہوں اک دل میںبکھر گئی جو مری داستاں تو کیا ہوگا

حیاتؔ کس کو دکھاؤں گی آبگینۂ دلملا نہ کوئی یہاں قدرداں تو کیا ہوگا

— مسعودہ حیات