7 اشعار

کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے

Koi to dil ki nigahon se dekhta jaaye

کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائےہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے

تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئیتمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے

ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہوگاتلاش گل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے

سجا کے تم کو گلوں سے اٹھائے ہیں پتھرزمانہ کتنا ستم گر ہے کیا کیا جائے

کریں گے کیسے حقیقت کا سامنا ہم لوگہمیں تو خواب ہی کوئی دکھا دیا جائے

کسی طرح تو اندھیرے غموں کے چھٹ جائیںمرا بجھا ہوا دل ہی کوئی جلا جائے

رہ حیات میں کانٹے بچھیں کہ پھول کھلیںیہ شرط ہے تری جانب وہ راستہ جائے

— مسعودہ حیات