7 اشعار

خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Khushboo si koi aaye to lagta hai ke tum ho

خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہوشیشہ کہیں ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

احساس محبت سے کسی گوشۂ دل میںجب چوٹ ابھر آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

پر کیف ہوا میں جو کسی پیڑ کے نیچےآنچل مرا لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

چھونے سے کبھی باد صبا کے مرے تن میںاک برق سی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سر رکھ کے جو پتھر پہ کبھی راہ الم میںکچھ نیند سی آ جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب شام ملاقات پڑوسی کے مکاں سےآواز کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب شانہ بھی کرنے نہ اٹھے ہاتھ ہمارااور زلف سنور جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

— مسعودہ حیات