7 اشعار

تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیا

Teri yaadon ne kabhi chain se jeene na diya

تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیامیں نے چاہا تو مجھے زہر بھی پینے نہ دیا

یوں ہی بن بن کے بگڑتے رہے آئین وفابے سہاروں کو سہارا تو کسی نے نہ دیا

غم تو غم جوش مسرت نے بڑھایا وہ جنوںچاک داماں کسی عنوان بھی سینے نہ دیا

زندگی غم سے سنورتی ہے یہ مانا لیکنمنزل غم میں سہارا تو کسی نے نہ دیا

آج کیوں آ گئے تم درد کا درماں بن کرجام فرقت بھی مجھے چین سے پینے نہ دیا

تیرے ملنے کی خوشی تیرے بچھڑنے کا ملالغمزۂ شام و سحر نے ہمیں جینے نہ دیا

کس سے شکوہ کریں ویرانیٔ ہستی کا حیاتؔہم نے خود اپنی تمناؤں کو جینے نہ دیا

— مسعودہ حیات