10 اشعار

ناداں ہیں وہیں جن کو عداوت سی لگے ہے

Nadaan hain wahin jin ko adawat si lage hai

ناداں ہیں وہیں جن کو عداوت سی لگے ہےہم کو تری ہر بات عنایت سی لگے ہے

شکوہ سا لگے ہے نہ شکایت سی لگے ہےاس لب پہ ہر اک بات محبت سی لگے ہے

کس کس کو تری آڑ میں سب لوٹ رہے ہیںیہ تو ہمیں بے نام سیاست سی لگے ہے

بہتر ہے ترے سامنے ہم لب ہی نہ کھولیںہر بات تجھے آج شکایت سی لگے ہے

کہتے ہیں تمہیں اب نہیں احساس کسی کایہ بات ہمیں اک نئی تہمت سی لگے ہے

اک موڑ پہ تو نے جو مرا ساتھ دیا تھاہر موڑ پہ اب تیری رفاقت سی لگے ہے

تپتے ہوئے صحرا میں کہاں چین جگر کوہاں سایۂ دامن میں تو راحت سی لگے ہے

شاید مرا احساس ہی سب کچھ ہے کہ دنیاصحرا سی لگے ہے کبھی جنت سی لگے ہے

پھولوں کی مہک ہے نہ شگوفوں کی لطافتپھیلی ہوئی ہر سو تری نکہت سی لگے ہے

کیا کہیے حیاتؔ آج ہے وہ دور جنوں خیزچہرے پہ ہر اک فرد کے وحشت سی لگے ہے

— مسعودہ حیات