5 اشعار

آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوا

Aaj hai dehr mein kya ek nayi aafat ke siwa

آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوابغض و نفرت کے سوا رنج و مصیبت کے سوا

اس طرح چھایا ہوا ہے نگہ‌ و دل پہ طلسمجیسے ہر چیز حقیقت ہو حقیقت کے سوا

اپنے ہر جبر کو وہ مہر و وفا کہتے ہیںہم بھی کچھ نام نہ دیں اس کو محبت کے سوا

ہستیٔ عشق کو اب تک نہ کوئی جان سکاورنہ ہے دہر میں کیا اور محبت کے سوا

ہر نفس اک نئے طوفان کی یورش ہے حیاتؔکس کو الزام دیں اس دور میں قسمت کے سوا

— مسعودہ حیات