5 اشعار

وہ ہم سے لاکھ محبت میں بد گماں سے رہے

Wo hum se lakh mohabbat mein bad-gumaan se rahe

وہ ہم سے لاکھ محبت میں بد گماں سے رہےہم ان کے ساتھ مگر پھر بھی نقد جاں سے رہے

لگی ہیں شعلہ بیانی کی تہمتیں اکثرہم ان کے شہر میں ہرچند بے زباں سے رہے

تمازت غم دوراں ہمیں جلا نہ سکیترے خیال کے ہر سمت سائباں سے رہے

اسی زمین کے ذروں میں کھو گئے اب ہمکہ جس زمیں پہ کبھی بن کے آسماں سے رہے

حیاتؔ کس کو تھا الہام جور پنہاں کاکہ اپنے دل پہ بظاہر وہ مہرباں سے رہے

— مسعودہ حیات