5 اشعار

ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے

Abhi mujhe ek dasht-e-sada ki veerani se guzarna hai

ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے

«ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ابھی مجھے اک دشت‌ صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہے

گری ہوئی دیواروں میں جکڑے سے ہوئے دروازوں کیخاکستر سی دہلیزوں پر سرد ہوا نے ڈرنا ہے

ڈر جانا ہے دشت و جبل نے تنہائی کی ہیبت سےآدھی رات کو جب مہتاب نے تاریکی سے ابھرنا ہے

یہ تو ابھی آغاز ہے جیسے اس پنہائے حیرت کاآنکھ نے اور سنور جانا ہے رنگ نے اور نکھرنا ہے

جیسے زر کی پیلاہٹ میں موج خون اترتی ہےزہر زر کے تند نشے نے دیدہ و دل میں اترنا ہے

— منیرنیازی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں