کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گیمیں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میںمیں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گیمیں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میںمیں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلےرنگ ہی غم کے نہیں نقش بھی پیارے نکلے
ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلےچاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
دل آزاری بھی اک فن ہےاور کچھ لوگ تو
ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیںچاہے ان کا برج کوئی ہو
وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیاریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا
اک جھلک دیکھی تھی اس روئے دل آرا کی کبھیپھر نہ آنکھوں سے وہ ایسا دل ربا منظر گیا
ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہےایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہے
گری ہوئی دیواروں میں جکڑے سے ہوئے دروازوں کیخاکستر سی دہلیزوں پر سرد ہوا نے ڈرنا ہے
کوئی حد نہیں ہے کمال کیکوئی حد نہیں ہے جمال کی
وہی قرب و دور کی منزلیںوہی شام خواب و خیال کی