63 اشعار

بنام وطن

Banam Watan

بنام وطن

«بنام وطن» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

کون ہے جو آج طلبگار ِ نیاز و تکریموہی ہر عہد کا جبروت وہی کل کے لئیم

وہی عیّار گھرانے وہی ، فرزانہ حکیموہی تم ، لائق صد تذکرہء و صد تقویم

تم وہی دُشمن ِ احیائے صدا ہو کہ نہیںپسِ زنداں یہ تمہی جلوہ نما ہو کہ نہیں​

تم نے ہر عہد میں نسلوں سے غدّاری کیتم نے بازاروں میں عقلوں کی خریداری کی

اینٹ سے اینٹ بجادی گئی خودداری کیخوف کو رکھ لیا خدمت پہ کمانداری کی

آج تم مجھ سے مری جنس ِ گراں مانگتے ہوحَلَفِ ذہن و وفادارئ جاں مانگتے ہو​

جاؤ یہ چیز کسی مدح سرا سے مانگوطائفے والوں سے ڈھولک کی صدا سے مانگو

اپنے دربانوں سے بدتر فُقرا سے مانگواپنے دربار کے گونگے شُعرا سے مانگو

مجھ سے پوچھو ے تو خنجر سے عُدو بولے گاگردنیں کاٹ بھی دو گے تو لہو بولے گا​

تم نے ہر دور میں دانش پہ کئی وار کئےجبر کے منہ میں دہکتے ہوئے الفاظ دِیے

اپنی آسائش ِ یک عُمر ِ گریزاں کے لِیےسب کو تاراج کیا تم نے مگر تم نہ جیے

علم نے خونِ رگِ جاں‌دیا اور نہ مَراعلم نے زہر کا ہیمانہ پیا اور نہ مَرا​

علم سقراط کی آواز ہے عیسےٰ کا لہوعلم گہوارہ و سیّارہ و انجام و نُمو

عِلم عبّاس علمدار کے زخمی بازُوعلم بیٹے کی نئی قبر پہ ماں کے آنسوُ

وادئ ابر میں قطروں کو ترس جائے گاجو ان اشکوں پہ ہنسے گا وہ جھلس جائے گا​

تم ہی بتلاؤ کہ میں کس کا وفادار بنوںعصمتِ حرف کا یا دار کا غمخوار بنوں

مشعلوں کا یا اندھیروں کا طلبگار بنوںکس کے خرمن کے لیے شعلہء اسرار بنوں

کون سے دل سے تمہیں ساعتِ فردا دے دوںقاتلوں کو نفسِ حضرتِ عیسیٰ دے دوں​

صُبح ِ کاشی کا ترنّم مری آواز میں ہےسندھ کی شام کا آہنگ مرے ساز میں ہے

کوہساروں کی صلابت مرے ایجاز میں ہےبال ِ جبریل کی آہٹ مری پرواز میں ہے

یہ جبیں کون سی چوکھٹ پہ جھکے گی بولوکس قفس سے مری پرواز رُکے گی بولو​

کس قفس سے غمِ دل قید ہوا ہے اب تککس کے فرمان کی پابند ہے رفتار ِ فلک

کون سی رات نے روکی ہے ستاروں کی چمککس کی دیوار سے سمٹی ہے چنبیلی کی مہک

دشتِ ایثار میں کب آبلہ پا رُکتا ہےکون سے بند سے سیلابِ وفا رُکتا ہے​

بہ وفادارئ رہ وار و بہ تکریمِ علمبہ گہربارئ الفاظ صنا دیدِ عجم

بہ صدائے جرس قافلئہ اہلِ قلممجھ کو ہر قطرہء خُون ِ شُہدا تیری قسم

منزلیں آکے پُکاریں گی سفر سے پہلےجُھک پڑے گا در ِ زنداں مرے سر سے پہلے​

آج تم رام کے مونس نہ ہنومان کے دوستتم نہ کافر کے ثنا خواں نہ ممُسلمان کے دوست

نہ تم الحاد کے حامی ہو نہ ایمان کے دوستتم نہ اشلوک کے حامی ہو نہ قرآن کے دوست

تم تو سکّوں کی لپکتی ہوئی جھنکاروں میںاپنی ماؤں کو اٹھا لاتے ہو بازاروں میں​

ذہن پر خوف کی بنیاد اٹھانے والوںظلم کی فصل کو کھیتوں میں اُگانے والوں

گیت کے شہر کو بندوق سے ڈھانے والوںفکر کی راہ میں بارُود بچھانے والوں

کب تک اس شاخِ گلستاں کی رگیں ٹوٹیں گیکونپلیں آج نہ پُھوٹیں گی تو کل پُھوٹیں گی​

کس پہ لبّیک کہو گے کہ نہ ہوگی باہمجوہری بم کی صدا اور صدائے گوتم

رزق برتر ہے کہ شعلہ بداماں ایٹمگھر کے چُولھے سے اُترتی ہوئی روٹی کی قسم

زخم اچھا ہے کہ ننھی سی کلی اچھی ہےخوف اچھا ہے کہ بچوں کی ہنسی اچھی ہے​

ہو گئے راکھ جو کھلیان اُنہیں دیکھا ہےایک اک خوشئہ گندم تمہیں کیا کہتا ہے

ایک اک گھاس کی پتّی کا فسانہ کیا ہےآگ اچھی ہے کہ دستور ِ نمو اچھا ہے

محفلوں میں جو یونہی جام لہو کے چھلکےتم کو کیا کہ کے پُکاریں گے مورّخ کل کے؟​

بُوٹ کی نوک سے قبروں کو گرانے والوتمغئہ مکر سے سینوں کو سجانے والوں

کشتیاں دیکھ کے طوفان اُٹھانے والوںبرچھیوں والو ، کماں والو ، نشانے والوں

دل کی درگاہ میں پندار مِٹا کر آؤاپنی آواز کی پلکوں کو جُھکا کر آؤ​

کیا قیامت ہے کہ ذرّوں کی زباں جلتی ہےمصر میں جلوہء یوسف کی دکاں جلتی ہے

عصمتِ دامنِ مریم کی فغاں جلتی ہےبھیم کا گرز اور ارجن کی کماں جلتی ہے

چوڑیاں روتی ہیں پیاروں کی جدائی کی طرحزندگی ننگی ہے بیوہ کی کلائی کی طرح​

صاحبانِ شبِ دیجور سحر مانگتے ہیںپیٹ کے زمزمہ خواں دردِ جگر مانگتے ہیں

کور دل خیر سے شاہیں کی نظر مانگتے ہیںآکسیجن کے تلے عمر خضر مانگتے ہیں

اپنے کشکول میں ایوانِ گُہر ڈھونڈتے ہیںاپنے شانوں پہ کسی اور کا سر ڈھونڈتے ہیں​

تو ہی بول اے درِ زنداں ، شبِ غم تو ہی بتاکیا یہی ہے مرے بے نام شہیدوں کا پتا

کیا یہی ہے مرے معیارِ جنوں کا رستادل دہلتے ہیں جو گرتا ہے سڑک پر پتّا

اک نہ اک شورشِ زنجیر ہے جھنکار کے ساتھاک نہ اک خوف لگا بیٹھا ہے دیوار کے ساتھ​

اتنی ویراں تو کبھی صبح بیاباں بھی نہ تھیاتنی پرخار کبھی راہِ مغیلاں بھی نہ تھی

کوئی ساعت کبھی اِس درجہ گریزاں بھی نہ تھیاتنی پُر ہول کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

اے وطن کیسے یہ دھبّے در و دیوار پہ ہیںکس شقی کے یہ تمانّچے ترے رُخسار پہ ہیں​

اے وطن یہ ترا اُترا ہوا چہرہ کیوں ہےغُرفہ و بامِ شبستاں میں اندھیرا کیوں ہے

درد پلکوں سے لہو بن کے چھلکتا کیوں ہےایک اک سانس پہ تنقید کا پہرا کیوں ہے

کس نے ماں باپ کی سی آنکھ اُٹھالی تجھ سےچھین لی کس نے ترے کان کی بالی تجھ سے​

رودِ راوی ترے ممنونِ کرم کیسے ہیںصنعتیں کیسی ہیں تہذیب کے خم کیسے ہیں

اے ہڑپّہ ترے مجبور قدم کیسے ہیںبول اے ٹیکسلا تیرے صنم کیسے ہیں

ذہن میں کون سے معیار ہیں برنائی کےمانچسٹر کے لبادے ہیں کہ ہرنائی کے​

عسکریت بڑی شے ہے کہ محبّت کے اصولبولہب کا گھرانہ ہے کہ درگاہِ رسول

طبل و لشکر مُتبرّک ہیں کہ تطہیرِ بُتولمسجدیں علم کا گھر ہیں کہ مشن کے اسکول

آج جو بیتی ہے کیا کل بھی یہی بیتے گیبینڈ جیتے گا یا شاعر کی غزل جیتے گی

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں