بنام وطن
کلام: مصطفی زیدی
کون ہے جو آج طلبگار ِ نیاز و تکریموہی ہر عہد کا جبروت وہی کل کے لئیم
وہی عیّار گھرانے وہی ، فرزانہ حکیموہی تم ، لائق صد تذکرہء و صد تقویم
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
کون ہے جو آج طلبگار ِ نیاز و تکریموہی ہر عہد کا جبروت وہی کل کے لئیم
وہی عیّار گھرانے وہی ، فرزانہ حکیموہی تم ، لائق صد تذکرہء و صد تقویم
درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا
تابش حسن بھی تھی آتش دنیا بھی مگرشعلہ جس نے مجھے پھونکا مرے اندر سے اٹھا