5 اشعار

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

Koī rafiq baham hī na ho to kyā kījiye

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

«کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پررواج نقش قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

ہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکنشراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

تباہ ہونے کا ارماں سہی محبت میںکسی کو خوئے ستم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

ہمارے شعر میں روٹی کا ذکر بھی ہوگاکسی کسی کے شکم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں