5 اشعار

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

Chale To Kat Hi Jaye Ga Safar Aahista Aahista

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

«چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ

دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھواٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ

زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میںپیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ

یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دیناخطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں