11 اشعار

وفا کیسی؟

Wafa Kaisi?

وفا کیسی؟

«وفا کیسی؟» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نےجس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی

جس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھیکعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سے

آج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نےآگ، کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھی

خواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحلمسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کرب

سرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دلجگمگاتے ہوئے آویزاں کی مبہم فریاد

دشت غربت میں کسی حجلہ نشیں کا محملایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھا

کاش ہم بک کے بھی اس جنس گراں کو پا لیںخود بھی کھو جائیں پر اس رمز نہاں کو پا لیں

عقل اس حور کے چہرے کی لکیروں کو اگرآ مٹاتی تھی تو دل اور بنا دیتا تھا

اور اب یاد کے اس آخری پیکر کا طلسمقصۂ رفتہ بنا زیست کی ماتوں سے ہوا

دور اک کھیت پہ بادل کا ذرا سا ٹکڑادھوپ کا ڈھیر ہوا دھوپ کے ہاتوں سے ہوا

اس کا پیار اس کا بدن اس کا مہکتا ہوا روپآگ کی نذر ہوا اور انہی باتوں سے ہوا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں