8 اشعار

ناشناس

Naashanaas

ناشناس

«ناشناس» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کتنے لہجوں کی کٹاریں مری گردن پہ چلیںکتنے الفاظ کا سیسہ مرے کانوں میں گھلا

جس میں اک سمت دھندلکا تھا اور اک سمت غباراس ترازو پہ مرے درد کا سامان تلا

کم نگاہی نے بصیرت پہ اٹھائے نیزےوہم کی نہر میں پیراہن افکار دھلا

قحط ایسا تھا کہ برپا نہ ہوئی مجلس عشقحبس ایسا تھا کہ تحقیق کا پرچم نہ کھلا

کون سے دیس میں رہتے ہیں وہ مونس جن کیروز اک بات سناتے تھے سنانے والے

ٹھوکروں میں ہے متاع دل ویراں کب سےکیا ہوئے غم کو سر آنکھوں پہ بٹھانے والے

رات سنسان ہے بے نور ستارے مدھمکیا ہوئے راہ میں پلکوں کو بچھانے والے

اب تو وہ دن بھی نہیں ہیں کہ مرے نام کے ساتھآپ کا نام بتاتے تھے زمانے والے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں