9 اشعار

آخری بار ملو

Aakhri Baar Milo

آخری بار ملو

«آخری بار ملو» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں

چاک وعدہ نہ سلے زخم تمنا نہ کھلےسانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے

باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیںآنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں

اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے

اب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت

لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے

آج تک تم سے رگ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے

پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملوماتمی ہیں دم رخصت در و دیوار ملو

پھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملوآخری بار ملو

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں