13 اشعار

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے

Chehre jadeed jism purane lage mujhe

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے

«چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھےاک موڑ پر تمام زمانے لگے مجھے

تنہا میں جل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگان تک گئی جو آگ، بجھانے لگےمجھے

آنکھوں میں جھانکنے کی ضرورت نہیں پڑیچہروں کے خول آئینہ خانے لگے مجھے

اپنی طرف جو دیکھ لیا ان کو دیکھ کرآنسو، چراغ، زخم، خزانے لگے مجھے

دروازے پر جو ان کے میں جا بیٹھا ایک دندیوار کی طرح وہ اٹھا نے لگے مجھے

ظالم کا ہاتھ جب میری دستار پر پڑادنیا کے پاؤں اپنے سر آنے لگے مجھے

سچائیوں کا زہر میں پینے چلا تو ہوںیہ زہر پی کے نیند نہ آنے لگے مجھے

آیا یہ کیسا خول چڑھا کر ستم ظریفاندر کے داغ بھی نظر آنے لگے مجھے

رکھا نہ میری موت کا بھی غم سنبھال کرآنکھوں سے اپنے لوگ بہانے لگے مجھے

ٹپکا لہو تو ظلم کی تصویر بن گئیظالم اسے پلٹ کے دکھانے لگے مجھے

اونچا ہو میرا سر یہ کوئی چاہتا نہ تھاسُولی پہ بھی چڑھا تو گِرانے لگے مجھے

مانگے ہوئے حریر و جواہر کی سیج پرسونے لگا تو پاؤں سرہانے لگے مجھے

مجھ سے ملے بغیر مظفر جو تھے خفامیں ان سے مل لیا تو منانے لگے مجھے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں