10 اشعار

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

Haath aankhon pe rakh lene se khatra nahin jata

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

«ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتادیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا

دعووں کے ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتیفیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا

فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتےتلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا

چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتےاپنی ہی کمائی کو تو لُوٹا نہیں جاتا

اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشیاور اپنے گریبانوں میں جھانکا نہیں جاتا

فولاد سے فولاد تو کٹ سکتا ہے لیکنقانون کو قانون سےبدلا نہیں جاتا

ظلمت کو گھٹا کہنے سے بارش نہیں ہوتیشعلوں کو ہواؤں سے تو ڈھانپا نہیں جاتا

طوفان میں ہو ناؤ تو کچھ صبر بھی آئےساحل پہ کھڑے ہو کے تو ڈوبا نہیں جاتا

دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسےپیاسوں کے گھروں تک کوئی دریا نہیں جاتا

اللہ جسے چاہے اُسے ملتی ہے مظفرعزت کو دوکانوں سے خریدا نہیں جاتا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں