14 اشعار

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی

Muflis-e-zindagi ab na samjhe koi

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی

«مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئیمجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا

جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوںایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا

جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھلےاُس کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے

جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاںخیر سے مُجھ کو خیر البشر مل گیا

محورِ دو جہاں ذات سرکار کیاور مری حیثیت ایک پرکار کی

اُس کی اِک رہگزر طے نہ ہو عمر بھرقبلہء آرزو تو مگر مل گیا

اُس کا دیوانہ ہوں اُس کا مجذوب ہوںکیا یہ کم ہے کہ میں اُس سے منسوب ہوں

سرحدِ حشر تک جاؤں گا بے دھڑکمجھ تو اتنا تو زادِ سفر مل گیا

جس طرف سے بھی گزریں مری خواہشیںمجھ سے بچ کر نکلتیں رہیں لغزشیں

جب جُھکائی نظر، جُھک گیا میرا سرنقشِ پا اُس کا ہر موڑ پر مل گیا

ذہن بے رنگ تھا ، سانس بے روپ تھیروح پر معصیت کی کڑی دھوپ تھی

اُس کی چشمِ غنی رونقِ جاں بنیچھاؤں جس کی گھنی وہ شجر مل گیا

جب سے مجھ پر ہُوا مصطفےٰ کا کرمبن گیا دل مظفر چراغِ حرم

زندگی پھر رہی تھی بھٹکتی ہوئیمیری خانہ بدوشی کو گھر مل گیا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں