ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
کلام: مظفر وارثی
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتادیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا
دعووں کے ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتیفیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتادیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا
دعووں کے ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتیفیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا
شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتاسچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہیں کرتا
گرتی ہوئی دیوار کا ہمدرد ہوں، لیکنچڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہیں کرتا