7 اشعار

جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی

Jhoom le hans bol le pyari agar hai zindagi

جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی

«جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

جھوم لے ہنس بول لے پیاری اگر ہے زندگیسانس کے بس ایک جھونکے کا سفر ہے زندگی

دیر ہی بنتے بگڑتے کچھ اسے لگتی نہیںپھول کی دیوار پر شبنم کا گھر ہے زندگی

زندگی میں جو بھی کرنا چاہتا ہے کر گزرکیا خبر برسوں کی ہے یا لمحہ بھر ہے زندگی

اجنبی حالات سے بھی ہنس کے ملنا چاہئےہر قدم پر مڑنے والی رہ گزر ہے زندگی

بھیجتا رہتا ہوں جانے اپنی سانسیں کس کے نامیار نا معلوم کی اک نامہ بر ہے زندگی

دشت میں نکلو تو کانٹا ہے تھکن ہے گرد ہےناؤ میں بیٹھو تو لگتا ہے بھنور ہے زندگی

تا ابد اس سے نہ ٹوٹے گا مظفرؔ رابطہموت سے آگے عدم کے نام پر ہے زندگی

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں