7 اشعار

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

Kya bhala mujh ko parakhne ka natija nikla

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

«کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلازخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا

تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پرڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا

جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نےبو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا

کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوںمیں تری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا

مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کرمیں ہی پردہ تھا اٹھا میں تو تماشا نکلا

توڑ کر دیکھ لیا آئینۂ دل تو نےتیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

نظر آیا تھا سر بام مظفرؔ کوئیپہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں