9 اشعار

کربلا

Karbala

کربلا

«کربلا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہےنمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے

حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہےسپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے

دلوں کو مسمار کر رہی ہےلہو لہو ہیں ہماری سوچیں

برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیںوفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں

ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ہوئے ہیںدھواں ہر اک خیمۂ صدا سے نکل رہا ہے

ہر ایک اندر سے جل رہا ہےریا کے نیزوں پہ آج سچائیوں کے سر ہیں

یزیدیت کے اصول اپنے عروج پر ہیںبڑی ہی ظالم ہے حق پسندی کو چین لینے نہ دے یہ دنیا

ہمیں تو کوفہ لگے یہ دنیاقدم قدم آزمائشوں کی فضا ملی ہے

ہمیں تو ہر دور میں نئی کربلا ملی ہے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں