7 اشعار

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا

Kab nishaan mera kisi ko shab-e-hasti mein mila

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا

«کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملامیں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں ملا

بھاگ نکلا تھا جو طوفاں سے چھڑا کر دامنسر ساحل وہی ڈوبا ہوا کشتی میں ملا

آنکھ روشن ہو تو دنیا کے اندھیرے کیا ہیںرستہ مہتاب کو راتوں کی سیاہی میں ملا

میں جلاتا رہا تیرے لیے لمحوں کے چراغتو گزرتا ہوا صدیوں کی سواری میں ملا

تو نے منگتوں کو اچٹتی ہوئی نظریں بھی نہ دیںہاتھ پھیلایا نہ جس نے اسے جھولی میں ملا

میں اک آنسو ہی سہی ہوں بہت انمول مگریوں نہ پلکوں سے گرا کر مجھے مٹی میں ملا

محفلوں میں کیا لوگوں نے مظفرؔ کی تلاشوہ بھٹکتا ہوا افکار کی وادی میں ملا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں