8 اشعار

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

Liya jo us ki nigahon ne jaiza mera

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

«لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میراتو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہیتمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا

چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کرمرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا

کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاںوہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا

جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوںبڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

عداوتوں نے مجھے اعتماد بخشا ہےمحبتوں نے تو کاٹا ہے راستہ میرا

میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرحمرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوںسنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں