6 اشعار

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

Mana ke musht-e-khaak se badh kar nahin hoon main

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

«مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میںلیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں

انسان ہوں دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھیوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہیں ہوں میں

چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کیآئینہ ہاتھ میں ہے سکندر نہیں ہوں میں

وہ لہر ہوں جو پیاس بجھائے زمین کیچمکے جو آسماں پہ وہ پتھر نہیں ہوں میں

غالبؔ تری زمین میں لکھی تو ہے غزلتیرے قد سخن کے برابر نہیں ہوں میں

لفظوں نے پی لیا ہے مظفرؔ مرا لہوہنگامہ صدا ہوں سخن ور نہیں ہوں میں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں