15 اشعار

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں

Tumhari aankhen shararti hain

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں

«تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںتم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو

بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کوشرارتوں پر ابھارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںلہو کو شعلہ بدست کر دیں

یہ پتھروں کو بھی مست کر دیںحیات کی سوکھتی رتوں میں

بہار کا بند و بست کر دیںکبھی گلابی کبھی سنہری

سمندروں سے زیادہ گہریتہوں میں اپنی اتارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںحیا بھی ہے ان میں شوخیاں بھی

یہ راز بھی اپنی ترجماں بھیریاست حسن و عشق کی ہیں

رعایا بھی اور حکمراں بھیوہ کھو گیا یہ ملی ہیں جس کو

یہ جیتنا چاہتی ہے جس کواسی سے در اصل ہارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںکشش کا وہ دائرہ بنائیں

حواس جس سے نکل نہ پائیںمیں اپنے اندر بکھر سا جاؤں

سمیٹنے بھی نہ مجھ کو آئیںعجب ہے انجان پن بھی ان کا

میں ان کا اور میرا فن بھی ان کاخموش رہ کر پکارتی ہیں

تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں