7 اشعار

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں

Muntazir rehna bhi kya chahat ka khamyaza nahin

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں

«منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیںکان دستک پر لگے ہیں گھر کا دروازہ نہیں

ہاتھ پر تو نے مقدر کی لکیریں کھینچ دیںکیا تجھے بھی میرے مستقبل کا اندازہ نہیں

دیکھنا چاہوں تو خوشبو، چھونا چاہوں تو ہوامیرے دامن تک جو آئے تو وہ شیرازہ نہیں

دفن ہوں احساس کی صدیوں پرانی قبر میںزندگی اک زخم ہے اور زخم بھی تازہ نہیں

تم ہی اے خاموشیو پتھر اٹھا لو ہاتھ میںکوئی نغمہ کوئی نالہ کوئی آوازہ نہیں

حسن پہچانے گی میرا دیکھنے والی نظرخوں تو ہے آنکھوں میں چہرے پر اگر غازہ نہیں

مانگتے ہیں کیوں مظفرؔ لوگ بارش کی دعاتشنگیٔ روح کا جسموں کو اندازہ نہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں