7 اشعار

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی

Meri soch mujhe kis rutbe par le aayi

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی

«میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئیدائرۂ ہستی اک نقطے پر لے آئی

جب دنیا کو میں نے کور نظر ٹھہرایامیری آنکھیں اپنے چہرے پر لے آئی

میں تو اک سیدھی پگڈنڈی پر نکلا تھاپگڈنڈی مجھ کو چوراہے پر لے آئی

یوں محسوس ہوا اپنی گہرائی میں جا کرجیسے کوئی موج کنارے پر لے آئی

صحرا میں بھی دیواریں سی پھاند رہا ہوںبینائی کس اندھے رستے پر لے آئی

میں نے نوچ کے پھینکیں جو شکنیں چادر سےوہ سب شکنیں دنیا ماتھے پر لے آئی

کاہکشاں کے خواب مظفرؔ دیکھ رہا تھااور بیداری ریت کے ٹیلے پر لے آئی

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں