8 اشعار

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں

Aadmi chaunk chuka hai magar utha to nahin

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں

«آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیںمیں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں

روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیںتجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں

رنگ سی شکل ملی ہے تجھے خوشبو سا مزاجلالہ و گل کہیں تیرا ہی سراپا تو نہیں

چہرہ دیکھوں تو خد و خال بدل جاتے ہیچھپ کے آئینے کے پیچھے کوئی بیٹھا تو نہیں

پھینک کر مار زمیں پر نہ زمانے مجھ کوٹوٹ ہی جاؤں گا جیسے میں کھلونا تو نہیں

زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروںشوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا تو نہیں

میری آنکھوں میں ترے نقش قدم کیسے ہیںاس سرائے میں مسافر کوئی ٹھہرا تو نہیں

سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مراذہن کی تہ میں مظفرؔ کوئی دریا تو نہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں