8 اشعار

اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا

Owaisiyon mein baith ja, bilaliyon mein baith ja

اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا

«اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اویسیوں میں بیٹھ جا ، بلالیوں میں بیٹھ جاطلب ہے کچھ تو بے طلب سوالیوں میں بیٹھ جا

یہ معرفت کے راستے ہیں اہلِ دل کے واسطےجنیدیوں سے جا کے مل، غِزالیوں میں بیٹھ جا

صحابیوں سے پھول ، تابعین سے چراغ لےحضور چاہئیں تو اِن موالیوں میں بیٹھ جا

درود پڑھ ، نماز پڑھ، عبادتوں کے راز پڑھصفیں تو سب بچھی ہیں عشق والیوں میں بیٹھ جا

ہر ایک سانس پر جو اُن کو دیکھنے کا شوق ہےتو آنکھ بن کر اُن کے در کی جالیوں میں بیٹھ جا

اگر ہیں خلوتیں عزیز تو ہجوم میں نکلاگر سکُون چاہئیے ، دھمالیوں میں بیٹھ جا

جو چاہتا ہے گُلستانِ مصطفےٰ کی نوکریتو بُوئے مصطفےٰ پہن کے مالیوں میں بیٹھ جا

مظفر ،آپ(ص) تک رسائی اتنی سہل تو نہیںتوجہ چاہئیے تو یرغمالیوں میں بیٹھ جا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں